کوئی بتائے بھلا کہ کیا ہے، یہ نصف شب میں؟
کیوں اتنی مغموم سی فضا ہے، یہ نصف شب میں؟
 
قسم خدا کی بہت برا ہے، یہ نصف شب میں
جو تیری یادوں کا سلسلہ ہے، یہ نصف شب میں
 
ہے کیا مصیبت؟ کبھی اجازت، کبھی تردّد
عجب تماشا لگا رکھا ہے، یہ نصف شب میں
 
ترے دوانے نے تیری خاطر حضور رب کے
زمیں کو سر پر اٹھا رکھا ہے، یہ نصف شب میں
 
مرے خدایا! مجھے تو اپنی اماں میں رکھ لے
کہ خود سے ہی میرا سامنا ہے، یہ نصف شب میں
 
لے تھام دِل کو، خیالِ جاناں سے باز آ جا
کہ مہرؔ بے حد بری بلا ہے، یہ نصف شب میں
ؔ ناصر مہر
20-12-2021