درج منزل نہ کبھی اپنے نصیبوں میں ہوئی
عمر ساری ہی بسر اپنی تو رستوں میں ہوئی
 
رات پھر یاد تری آن پدھاری دل میں
رات پھر رخصتی اُس کی مرے اشکوں میں ہوئی
 
عمر ماں باپ کی خدمت میں بسر کرنی تھی
اور پردیس میں آلام کے قدموں میں ہوئی
 
حزن سے، بھیڑ میں دنیا کی بھلے جتنا چھپا
میری پہچان اُسے سینکڑوں چہروں میں ہوئی
 
آج پھر چار ہوئیں ان سے یہ آنکھیں میری
آج پھر نفرت عیاں ان کی نگاہوں میں ہوئی
 
رزق تھا میری نگاہوں کا تمہارا دیدار
حیف ہے! ان کی بسر زندگی فاقوں میں ہوئی
 
مجھ پہ واضح نہ تھا ہوتے ہیں منافق کیسے
پھر کہیں جا کہ پرکھ مجھ کو یہ رشتوں میں ہوئی
 
ہونٹ شامل نہ ہوئے اُن کے نہ ہی مہرؔ کے بس
آج تو ہم سخنی دونوں کی آنکھوں میں ہوئی
ؔ ناصر مہر
01-03-2022