اخیر لطف اسے بے وفائی دیتی ہے
جبھی وہ غیروں کو خود تک رسائی دیتی ہے
 
تمہاری آنکھیں بھلا اتنی گہری کیسے ہیں
تمہاری آنکھوں میں دنیا دکھائی دیتی ہے
 
تمہاری آنکھوں کی گہرائی دیکھ کر جاناں
ہر ایک جھیل جہاں کی دہائی دیتی ہے
 
اے ہم نشیں یہ بتا ماجرا ہے کیا آخر
مجھے تو چپ بھی اب اس کی سنائی دیتی ہے
 
کہاں یہ وصل کے بس میں کہ کر سکے وہ عطا
شکستہ دل کو جو راحت جدائی دیتی ہے
 
مجھے لگے مرے قبضے میں دنیا مہرؔ کہ جب
وہ میرے ہاتھ میں دستِ حنائی دیتی ہے
ؔ ناصر مہر
01-03-2022