سنبھالوں بھلا کیسے کہ دل بس میں نہیں ہے
وہ زہرہ جبیں آج مرا پہلو نشیں ہے
وہ اور ہی کچھ ہے میاں اب کیا میں بتاؤں
توہین ہے گر اس کو کہیں ہم کہ حسیں ہے
اے ضوئے سحر نورِ قمر تیرے بنا تو
جُز تیرگی جیون میں مرے کچھ بھی نہیں ہے
وصلت میں کسی کی کسی کا ہجر ہے طاری
میں اور کہیں ہوں مرا دل اور کہیں ہے
جو وقت مری ذات سے مطلوب ہے تجھ کو
وہ مجھ کو میسر مری خاطر بھی نہیں ہے
ہے مِلک ہی کیا میری کہ جو تجھ پہ میں واروں
لے دے کے مرے پاس تو اک قلبِ حزیں ہے
اصنام کی الفت میں پڑا مہرِؔ بد اقبال
غافل ہی رہا اس سے جو شہ رگ سے قریں ہے
ؔ ناصر مہر
15-06-2022

