بیدادگر کو دل یہ برا کیوں کہے بھلا
جیسا بھی ہے عزیز ہے مولا کرے بھلا
ہم جس کو چاہتے تھے وہ ہم کو نہ مل سکا
اور جو ہمیں ملا وہ کسے چاہیے بھلا
اک بار جو بھی بیٹھ گیا تیری بزم میں
خوش بخت وہ وہاں سے کبھی کیوں اٹھے بھلا
ان کی نگاہِ مست سے جو بادہ کش پئے
کیونکر پھر اس کو یاد رہے لطفِ مے بھلا
موثوق ہے بے انتہا، میرا مشاہدہ
چہرہ ہے میرے یار کا مہتاب سے بھلا
فطرت ہی میں بلا کی ہے خودداری اپنی، پھر
گردن کسی کے سامنے کیسے جھکے بھلا
کمبخت ہے یہ دل اِسے کتنا ستائے ہے
با ایں ہمہ اِسے وہ جفا کش لگے بھلا
اپنی تو مہرؔ کاوشیں ساری عبث رہیں
مل جائے کم نظر وہ جسے بھی ملے بھلا
اب مہرؔ آشنائی نہیں اس سے کچھ مجھے
میری بلا سے اس کا برا ہو بھلے بھلا
ؔ ناصر مہر
15-06-2022

