اِس قدر زمانے سے تُو برتر بھی نہیں تھا
جُھک جائے جبیں جس پہ تُو وہ در بھی نہیں تھا
 
آمد سے تری قبل، میں اے بادِ خزاں گر
سرسبز نہیں تھا تو یوں بنجر بھی نہیں
 
تُو نے ہی مجھے آتشِ ہجراں میں جلایا
تُجھ سے تو بچھڑنے کا مجھے ڈر بھی نہیں تھا
 
وہ، بھیڑ میں جس پر یہ نظر جا کے ٹکی تھی
اوروں سے وہ اس قدر تو بہتر بھی نہیں تھا
 
بے جا ہے یہ جاں اُس کے لئے ہم نے کھپائی
تھا خوب مگر وہ پری پیکر بھی نہیں تھا
 
مسحور عبث اے دلِ نادان ہوا تُو
ورنہ وہ جمال ایسا فسوں گر بھی نہیں تھا
 
کس کے لئے ہے مہرؔ بھلا نوحہ کناں تو
وہ جو تجھے پل بھر کو میسّر بھی نہیں تھا
ؔ ناصر مہر
11-08-2022