رہیں کاوشیں مری سب عبث کہ ذرا اثر نہیں ہو سکا
مرے یار! وہ مرا یار، قصۂ مختصر، نہیں ہو سکا
 
یہ خلاصہ ہے مرے حال کا، مرے مرضِ دل کا معالجہ
مرے چارہ گر بھلے عمر بھر رہے ساعی پر، نہیں ہو سکا
 
بھلے جس نے جو بھی عمل کیا، نہیں وعظ ہم نے کبھی دیا
کہ ہم عاجزوں سے مباحثہ پئے خیر و شر نہیں ہو سکا
 
وہ ہو ساتھ تو نہ ہو کوئی غم، وہ نہ ساتھ ہو تو نہ آئے دم
ہے بجا کہ پیار ہوا مجھے، مگر اس قدر نہیں ہو سکا
 
ہوئیں ختم ساری لطافتیں، ہوا لطف و مہر کا خاتمہ
کسی اور کا بھی نہیں ہوا، وہ مرا اگر نہیں ہو سکا
 
جو میں چل پڑا تو رکا نہیں، بھلے دشت ہو یا ہو بَن کہیں
جسے منزلوں کی ہوس رہے، وہ مرا سفر نہیں ہو سکا
 
کبھی التجا تو کبھی دعا، کبھی برہمی، کبھی شاعری
کیے مہرؔ میں نے کئی جتن، وہ مرا مگر نہیں ہو سکا
ؔ ناصر مہر
07-11-2022