تغیر
!یار سن
بات یوں ہے کہ اب زندگی کا رویہ
ذرا ہم سے اچھا نہیں
اب وہ پہلے سی ہم پر عنایت نہیں
اب خطاؤں کی ہم کو رعایت نہیں
وقت بھی اب تو مہلت نہیں دے رہا
ہم کو اذنِ شکایت نہیں دے رہا
بات ماضی کی کچھ اور تھی ہم نشیں
روز و شب بس ترا ہی تصور تھا جب
دن گزرتا تھا تیرے خیالوں میں ہی
رین کٹتی تھی خوابوں میں کھوئے ہوئے
چاند میں عکس تیرا ہی دکھتا تھا جب
رات دن بے سبب مسکراتے تھے لب
پیش تھا جب ہمیں کوئی قصہ عجب
دل نشیں، خوش نما، خوبصورت تھا سب
کوئی تنگی نہ تھی اور نہ کوئی طلب
بے نیازی میں کٹتے تھے جب روز و شب
ایسوں ویسوں کی پروا بھی کرتے تھے کب
منفرد تھا زمانے سے اپنا وہ ڈھب
وقت پھر رخ نیا ایک دکھلا گیا
ساری خوشیوں کو اپنی جو کمھلا گیا
بے نیازی کی بازی کو پلٹا گیا
زیست کے پیچ و خم میں ہی اُلجھا گیا
سارے غم، مسئلے، سب کٹھن مرحلے
ہم سے روپوش ہی اب تلک جو رہے
بے حجابانہ سب سامنے آ گئے
زندگی کا نیا روپ دکھنے لگا
چین دو کوڑیوں میں ہی بکنے لگا
کارگاہِ جہاں کے جھمیلوں نے بھی
اس قدر ہم کو اُلجھا دیا ہے کہ اب
روز و شب میں کوئی فرق لگتا نہیں
بیڑیوں میں جوانی کی جکڑے ہوئے
انگلی ذمّہ داری کی پکڑے ہوئے
کچھ فرائض کی تکمیل کے واسطے
کیا خبر ہم چلے جا رہے ہیں کہاں
کیسے دلدل میں دھنسنے لگے ہیں قدم
پر کٹے کس قفس میں مقیّد ہیں ہم
پیٹھ میں آ گیا وقت سے قبل خم
لد گئے اپنے شانے پہ دنیا کے غم
بس تصور بھی اب تیرا گاہے گہے
چاند میں بھی نہ اب عکس تیرا دکھے
پھول بھی اب نہ رنگین و نازک رہے
اب مہک سے گلستاں بھی عاری ہوئے
کوئی چہرہ بھی اب خوبصورت نہیں
کچھ رفیقوں کی ہم کو ضرورت نہیں
اب کسی کی بھی دل میں محبت نہیں
اب کسی سے بھی کوئی کدورت نہیں
بڑھ رہی ہے نحافت بھی اب دم بدم
کچھ گنوانے یا پانے سے قاصر ہیں ہم
حوصلہ اب کسی گام ہوتا نہیں
کام کرتے ہیں تو کام ہوتا نہیں
گر تھکن ہو تو آرام ہوتا نہیں
شعر کہنے کو الہام ہوتا نہیں
اب مزید عشقِ ناکام ہوتا نہیں
حزن کا مہرؔ اتمام ہوتا نہیں
ؔ ناصر مہر
21-09-2024

