جاگ رہیں گے جاگنے والے، جو سوتا ہے سونے دو
جاگ کے بھار یہ ہستی کا پھر جو ڈھوتا ہے ڈھونے دو
ہے بے سود آشفتہ سروں کو عقل کی بات بتانا بھی
عشق میں بس ہاتھ اپنی جان سے جو دھوتا ہے ڈھونے دو
کون ہے ایسا اس دنیا میں ٹال سکے جو ہونی کو
ہو کے رہے گا جو ہونا ہے، جو ہوتا ہے ہونے دو
کیا ہے نفع، خسارہ کیا ہے، ہم کو مت بتلاؤ تم
مجنون و وارفتہ سروں کا جو کھوتا ہے کھونے دو
مہرؔ نے پہلے روز کہا تھا، سوچ سمجھ کے ساتھ چلو
اب جو غم نے آن لیا ہے، جو روتا ہے رونے دو
ؔ ناصر مہر
13-02-2025

