رازِ دل راز رہے یا کہ بتایا جائے
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کِیا کیا جائے
کیوں نہ اوسان ٹھکانے سے ہٹائے جائیں
کیوں نہ اک حشر سا وحشت میں اٹھایا جائے
خود قضا فرطِ تحزن میں کرے آہ و بکا
جان سے جائے کوئی گر تو پھر ایسا جائے
بات یوں ہے کہ رہی پہلے سی اب بات نہیں
بات یوں ہے کہ اب اس بات کو بھولا جائے
جھوم اٹھے پیشِ نظر معنویت ہی ساری
سازِ ہستی کبھی اس طرز سے چھیڑا جائے
بے کلی گھر میں ہے اور دشت میں بھی چین نہیں
مہرؔ اس حال میں کس سمت کو جایا جائے
ؔ ناصر مہر
15-03-2023

