آنکھوں میں تیری پہلے سی اب بات کیوں نہیں
بکھری جو زلف تیری ہوئی رات کیوں نہیں
اب کیوں نہیں وہ ناز و ادا باقی حُسن میں
اب عشق میں وہ گرمیِ جذبات کیوں نہیں
کیسے ہے میری ذات مکمل تِرے بغیر
میرے بغیر ادھُوری تری ذات کیوں نہیں
پوچھے ہے رہگزر کہ ہے زادِ سفر کہاں
ہاتھوں میں میرے اب کے ترا ہات کیوں نہیں
پا تو لیا ہے تُجھ کو پہ حیرت مآب ہوں
کھونے کے تُجھ کو ذہن میں خدشات کیوں نہیں
یوں روٹھنے لگے ہو جو بے وجہ تم تو پھر
چھائیں گے اپنی سوچ پہ شبہات کیوں نہیں
دعویٰ ہے ایک دوجے سے الفت کا گر تو پھر
مابین سازگار یہ حالات کیوں نہیں
کیوں بے اثر ہیں میرے قصیدے ترے لیے
باتوں میں تیری لذّتِ نغمات کیوں نہیں
اب کیوں نہیں ہے سودا تُجھے میرے وصل کا
تیرے اسیر میرے خیالات کیوں نہیں
ترکِ تعلقات پہ بولا یہ مہرؔ نے
!دشوار ہے یہ فیصلہ"، ارتھات، کیوں نہیں"
ؔ ناصر مہر
03-03-2023

