آج پھر زخمِ کہن کوئی کریدا جائے
آج پھر یاد میں شب بھر تری رویا جائے
آج پھر خواب نگر گھومنے جایا جائے
آج پھر صبح تلک تجھ کو واں ڈھونڈا جائے
آج پھر عشق کا چولا ترے پہنا جائے
آج پھر خود کو ترے غم سے سنوارا جائے
آج پھر جاگتی آنکھوں سے کوئی خواب دکھے
آج پھر خانۂ ویران میں تو آ جائے
آج پھر یاد تری دل میں بسیرا ڈالے
آج پھر رنج ترا، سارا سکوں کھا جائے
آج پھر روزہ ہو افطار مری آنکھوں کا
آج پھر ان کو میسر تری دید آ جائے
آج پھر تیرے سبھی ظلم بھلائے جائیں
آج پھر تجھ پہ دل و جان کو وارا جائے
آج پھر حسن، تغافل، ستم عنوان بنیں
آج پھر ذکر ترا بزم میں چھیڑا جائے
آج پھر سارے رقیبوں کی کوئی بزم سجے
آج پھر سے غمِ محرومی منایا جائے
آج پھر رب سے تجھے مانگنے کا سوچیں اور
آج پھر رب سے تجھے مہرؔ نہ مانگا جائے
ؔ ناصر مہر
14-06-2022

